Site Search

Site Search

Showing posts with label Islamic. Show all posts
Showing posts with label Islamic. Show all posts

تیری مانند کون ہے ؟

Tuesday, June 15, 2010

تیری مانند کون ہے ؟
(ریحان احمد یوسفی)

ایک برتر ہستی سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔ انسان چاہے نہ چاہے ، وہ کسی نہ کسی کو اپنا معبود بنانے پر مجبور ہے ۔ مگر معبود بننے کے لائق صرف ایک ہی ہستی ہے ۔ اللہ ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

انسان کا المیہ دیکھیے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی اللہ تعالیٰ کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ ہر دور میں اس نے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے ۔ پھر خدا کو غیر اہم جان کر انہی کی حمد کی ہے ۔ انہی کی عظمت کے گن گائے ہیں ۔ انہی سے مدد مانگی ہے ۔ انہی کے سامنے سر جھکایا ہے ۔انہی سے محبت کی ہے ۔ انہی کے لیے روئے ہیں ۔انہی کے لیے تڑ پے ہیں۔انہی کا اعتراف کیا ہے ۔انہی کے شکر گزار بنے ہیں۔ انہی کے لیے محبت اور انہی کے لیے نفرت کی ہے ۔انہی کے نام کو آنکھوں کی روشنی اور انہی کی یادکو زبان کی مٹھاس بنایا ہے ۔

یہ سب تو اللہ کا حق ہے۔ ہر دور میں تھا ۔ ہر دور میں رہے گا۔ غیر اللہ کی عبادت اور حمد کرنے والے یہ لوگ، انبیائے بنی اسرائیل کے الفاظ میں ، اُس عورت کی مانند ہیں جو اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے ساتھ بدکاری کرتی ہے ۔اس کے برعکس اللہ کے رسولوں کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا جینا مرنا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے ۔وہ ہر مشکل میں اسی پر بھروسہ کرتے اور ہر کامیابی پر اسی کی حمد کے ترانے پڑ ھتے ہیں۔ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے عرب پر غلبہ کے بعد صفا پہاڑ پر چڑ ھ کر اللہ تعالیٰ کی جو حمد کی، اس کے الفاظ یہ ہیں :

"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہی اسی کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔"، (مسلم، رقم 1218 )

اللہ تعالیٰ نے فرعون کو جب غرق کیا اور حضرت موسیٰؑ اور ان کی قوم کو سمندر سے سلامتی کے ساتھ گزاردیا تو اس موقع پر حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی انتہائی خوبصور ت انداز میں حمد و ثنا کی ۔ اس حمد کا ایک جملہ یہ ہے :

’’معبودوں میں اے خداوند، تیری مانند کون ہے۔‘‘، (خروج 11:15)

ان دونوں پیغمبروں کی ذات رہتی دنیا تک اس بات کا بھی نمونہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے کیسے ہوتے ہیں اور ا س بات کا بھی کہ ایسے وفاداروں کو وہ کس طرح نوازتا ہے ۔مگر اس کی عطا اسی پر بس نہیں، وہ تو ایسا کریم ہے کہ لوگوں کو غیر اللہ کی پرستش کرتے دیکھتا ہے ، پھر بھی ان پر اپنی نعمتوں کے دروازے بند نہیں کرتا۔

وفاداروں کو دینے والے تو بہت ہوتے ہیں ، مگر بے حیا اور بے وفا لوگوں پر رحم کرنے والی ایک ہی ہستی ہے ؛اللہ جس کے سوا کوئی رب نہیں ۔وہ جب اپنے وفاداروں کو نوازے گا تودنیا دیکھے گی۔ سواب جو جس کو چاہے اپنی وفا کا مرکز و محور بنالے۔نبیوں کے طریقے پر چلنے والے ، مرتے دم تک خد اکی محبت سے سرشار، یہی کہتے رہیں گے :
’’معبودوں میں اے خداوند، تیری مانند کون ہے۔‘‘

Posted by True Love of Islam at 1:49 AM 0 comments  

اپنا چراغ جلا ليں

Friday, March 26, 2010

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے ايک ارشاد کا مفہوم ہے کہ اگرقيامت آجائے اورکسي کے ہاتھ درخت کي ايک قلم (شاخ) ہو اور اسے مہلت ہو تو وہ ضرور يہ قلم (شاخ)  لگادے، مسند احمد(83:3)۔يہ روايت ہميں ايک تعميري سوچ ديتي ہے۔ اس سوچ کا حامل انسان بدترين حالات ميں بھي مايوسي اور بے عملي کا شکار نہيں ہوتا۔
 
يہ بات بالکل واضح ہے کہ قيامت ايک ايسي تباہي کا نام ہے جس ميں درخت لگانا بظاہر بے فائدہ کام ہے۔ کيوں کہ درخت لگاناايک ايساعمل ہے جس کي نفع بخشي کے ليے کئي برس درکار ہوتے ہيں۔جبکہ قيامت کا زلزلہ لمحہ بھر ميں ہرچيز کو تباہ کردے گا۔ ليکن يہ روايت بتاتي ہے کہ انسان کومثبت ذہن کے ساتھ کام کرناچاہيے، چاہے اسے يقين ہو کہ اس کے کسي کام کاکوئي نتيجہ نہيں نکلنے والا۔اس کاسبب يہ ہے کہ ايک بندۂ مومن آخرت کے اجرکے ليے کام کرتاہے اوريہ اجر اصلاًاس کي نيت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ جيسے ہي وہ کسي کام کا ارادہ کرليتاہے، اس کے ليے ايک اجرثابت ہوجاتاہے۔ اور جب وہ اس کام کوکرديتا ہے تودوسرااجر ثابت ہوجاتاہے۔ اس کام سے کوئي نفع ہوناشروع ہوتاہے توتيسرے اجرکاآغازہوجاتاہے۔ اس سے يہ بات واضح ہے کہ انسان کے کسي عمل کانتيجہ اگر بظاہر نہيں بھي نکلتاتب بھي تين ميں سے دو اجر تو بہرحال انسان کومل جاتے ہيں۔ اور وہ صرف ايک اجر سے محروم رہتا ہے۔
 
  عام حالات ميں لوگ معاشرے کے بگاڑ سے پريشان ہوکر مايوس ہوجاتے ہيں اور مايوسي کي بناپرصرف منفي چيزوں کو ديکھتے ہيں اور پھر وہ ان چھوٹے چھوٹے اچھے کاموں کو بھي چھوڑديتے ہيں جنہيں وہ باآساني کرسکتے ہيں۔نتيجے کے طور پر معاشرے ميں بگاڑ بڑھتا رہتا ہے۔ مگر جب لوگ حالات کي خرابي سے بے پرواہ ہوکر اپنے حصے کا اچھا کام کرتے رہتے ہيں تو آہستہ آہستہ برائي کم ہونا اور خير پھيلنا شروع ہوجاتا ہے۔ہر آدمي اپنے حصے کا درخت لگاتا ہے اور کچھ عرصے ميں ايک چمنستان وجود ميں آجاتا ہے۔
 
  اس بات کو ايک اورمثال سے يوں سمجھاجاسکتا ہے کہ جب رات آتي ہے توسورج کي روشني ختم ہوجاتي ہے۔ ہرطرف اندھيراپھيل جاتاہے۔ ايسے ميں کسي ايک فردکاچراغ جلاناسارے اندھيرے کودور نہيں کرسکتا اور نہ ا س کا چراغ ہي سورج کا نعم البدل ہوسکتا ہے۔ مگرلوگ ان چيزوں سے بے پرواہ ہوکر اپنا اپنا چراغ جلاتے ہيں۔دنيا بھرسے قطع نظر ان کے اردگرد روشني پھيلناشروع ہو جاتي ہے۔ اورجب سارے لوگ اپنے اپنے چراغ جلاتے ہيں توہرجگہ روشني پھيل جاتي ہے۔ اور اندھيرے دور ہوجاتے ہيں ۔
 
  تو اب آئيے! ماحول کے اندھيرے سے بے پرواہ ہوکر
ہم اپنا چراغ جلاليں۔ہم اپنا درخت لگاليں۔

Posted by True Love of Islam at 2:48 AM 0 comments  

Subscribe Now: google

Add to Google Reader or Homepage